جنگ کے بعد اسرائیل اور فلسطین کا مستقبل: تباہی کے دھوئیں سے امید کی کرن تک
جنگ کے بعد اسرائیل اور فلسطین کا مستقبل: تباہی کے دھوئیں سے امید کی کرن تک تحریر: [جون] تمہید جب بھی اسرائیل اور فلسطین کے درمیان جنگ چھڑتی ہے، صرف بارود ہی نہیں پھٹتا، بلکہ انسانیت بھی بکھر جاتی ہے۔ ہر حملے کے بعد صرف عمارتیں نہیں گرتیں، خواب، نسلیں، اور تاریخ کے صفحات بھی راکھ ہو جاتے ہیں۔ 2023-24 کی حالیہ جنگ اس تلخ حقیقت کا بدترین عکس بن کر ابھری، جس نے دنیا کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ اب سوال یہ نہیں کہ کیا ہوا، بلکہ یہ ہے کہ آگے کیا ہوگا؟ جنگ کے زخم اور سیاسی تقسیم یہ جنگ صرف راکٹوں اور فضائی حملوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ اس نے بین الاقوامی سیاسی توازن کو بھی چیلنج کر دیا۔ ایک طرف اسرائیل کا مؤقف ہے کہ وہ اپنے شہریوں کی حفاظت کر رہا ہے، تو دوسری طرف فلسطینی علاقوں—خاص طور پر غزہ—میں انسانی بحران نے دنیا کو خاموشی پر مجبور کر دیا ہے۔ اقوام متحدہ، عالمی عدالتِ انصاف، اور مختلف انسانی حقوق کی تنظیمیں آواز بلند کر رہی ہیں، مگر کیا صرف قراردادیں اور بیانات اس المیے کا حل ہیں؟ شاید نہیں۔ مستقبل کی تین ممکنہ راہیں دو ریاستی حل: خواب یا حقیقت؟ کئی دہائیوں سے "دو ریاستی حل" (Two-St...